Saturday, March 8, 2014

Article for Publication - Are We Prepared for Counter Terrorism

Article for Publication

March 6th, 2014







Col. Riaz Jafri (Retd)


"I say with full responsibility that Islamabad is a safe and secure city", so declared the Interior Minister Ch. Nisar Ali Khan in a press conference and ironically, only three days later the terrorists devastated his hollow claim by striking at the District Courts Complex Islamabad killing at least 11 people, including an Additional Sessions Judge Rafaqat Ahmed Awan and a 25 year old young lady lawyer Fiza apart from wounding 25 others some seriously with three lawyers also critically wounded amongst them .

The one sided gun and grenade carnage lasted for nearly 45 minutes and the killers were at leisure to enter any office, court room or chamber – at places even asking the hapless victims to recite Kalima before killing them!  Apparently no serious effort seems to have been made by the Police to stop the killing spree of the terrorists who made their escape good in the vehicles they had come to the courts. Strangely, there are conflicting reports about the exact number of the terrorists that played havoc at the courts.  This is what the Honourable Interior Minister had to say of the incident in the National Assembly. He said  that there was a huge difference between the intelligence provided by intelligence agencies and the police.

According to the police two men entered a side lane of the district courts where they first fired into the air and then shot everyone who came their way. On the other hand, the intelligence agencies informed him that three men entered the premises; all had Kalashnikovs while the two of them wore suicide jackets also who blew themselves up while the third one ran away. However, according to an initial report of the police and intelligence agencies there were four armed men who entered the courts complex and two suicide attacks took place. Firing broke out after the blasts and the other two attackers fled the scene.  What a confusion and what an intelligence shemozzle ?!!   A force of 60 policemen are said to be deputed for the security of the Islamabad courts, out of which  47 were present on the day of occurrence. However, only one is reported to have fired at the terrorists and that too without any effect. Most others are alleged to have had defective w! eapons. Some policemen confided to the news reporters that they had orders not to open fire at their own.  There were no CCTV cameras around, which had been incidentally ordered by the previous CJ Iftikhar Ch. about a year ago to cover all the courts premises.  Surprisingly, they have been installed so promptly within two days of the incident!  Where have these cameras come from?  Anybody's guess!  One thing is for sure that these could not been possibly procured and installed too at such a short notice unless all government procurement rules, regulations and procedures were flouted. The Secretary Interior informed the apex court that a police contingent was rushed to the scene of occurrence in 7 to 10 minutes from the nearby Margalla Police Station, which was scoffed at by the honourable court with the  remarks that had they arrived that quickly the terrorists could not have done what they did.


Now the question arises that were these 60 policemen or the contingent rushed from the nearby police station trained in any way to counter a well planned and executed terrorist suicidal attack or were they simply there just as a "show of force"?

Were they to act (react) individually on their own or had they been organized and divided into various groups, sections and platoons etc. each with a specific task assigned to it? Did they have their specific 'Stations' to occupy during the operation, such as some vantage or high points affording good visibility and cover from terrorist fire or were they just to run around in the open exposing themselves fully to the enemy fire?  Did they have any means of communications (wireless sets, Walkie/Talkies etc.) between themselves for effective Command and Control? Did they have any body armour (bullet proof vests) for their protection?  Was there ever any exercise or rehearsal carried out against a mock terrorist attack? In short did they know what to do and how to do it?  If not, then how do we expect such an untrained and ill-equipped force to counter any terrorist attack effectively? They will simply act like the cannon fodder and for that only the! ir senior officers are to be blamed. There is an old saying , "The greatest disloyalty a commander can do to his men is to launch them into a battle without proper training for it".


Col. Riaz Jafri (Retd)

NIC# 37405- 9122353-5


Col. Riaz Jafri (Retd)
30 Westridge 1
Rawalpindi 46000
Tel: (051) 5158033

Shahzad Afzal

Saturday, August 25, 2012

سچی آپ بیتی۔اژدھا کے منہ میں چار سال۔قسط پنجم۔ وحشی حملہ

اژدھا کے منہ میں چار سال
ملاعبدالسلام ضعیف سابق سفیر افغانستان برائے پاکستان
قسط پنجم:-وحشی بھیڑیوں کا حملہ
          حوالگی کا یہ لمحہ بڑا دردناک اور انتہائی کربناک تھا۔ کئی افراد نے مجھ پر یک بارگی حملہ کردیاجیسے کوئی میمنہ بھیڑیوں کے نرغے میں آگیا ہو اور ہر بھیڑیا زیادہ شدت کے ساتھ اس چیر پھاڑ میں حصہ لے رہا ہو۔ لاتوں،گھونسوں، تھپڑوں اور مکوں کی بارش ہورہی تھی۔ مجھے زمین پر پٹخ دیا گیاتھا۔ چاقووں سے میرا لباس پھاڑا جا رہا تھا۔ فحش گالیاں دی جارہی تھیں۔ میں انگ انگ میں شدید درد محسوس کررہا تھالیکن تشدد تھمنے میں نہیں آرہا تھا۔ حتی کہ میرا پورا لباس چیتھڑے بن کر میرے جسم سے الگ ہو گیا اور میں بالکل برہنہ ہو کر ان کے درمیان بے سدھ پڑا تھا۔اس ذلت اور بے بسی میں میری آنکھوں سے وہ پٹی سرک گئی جو میری آنکھ اور میرے برہنہ جسم کے درمیان حائل تھی۔ چاروں طرف دیکھا تو پاکستانی فوجی اہل کار فوجی انداز میں صف بستہ کھڑے تھے۔ ان میں غالباً کوئی جرنیل بھی تھا کیونکہ فوجی گاڑی پر جنرل کا نشان لگا ہوا تھا۔یہ لوگ امریکیوں سے اتنا بھی نہ کہ سکے کہ کم از کم ہمارے سامنے اس مسلمان قیدی کے ساتھ یہ انسانیت سوز سلوک تو نہ کیا جائے۔وہ خاموشی سے حوالگی کے رسمی تقاضے پورے کرنے میں مگن تھے۔چند امریکی فوجی بھی منظم انداز میں کھڑے تھے اور کچھ میرے ساتھ یہ وحشیانہ اور ظالمانہ سلوک کررہے تھے۔
          یہ اتنا وحشت ناک اور توہین آمیز منظر تھا کہ مر کر بھی نہیں بھول سکوں گا۔ میں کوئی مجرم نہیں تھا۔اس شرمناک سلوک کو کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔امریکی وحشی جانوروں نے ٹھڈے  اور مکے مار مار کر اس حالت میں اٹھا کر ہیلی کوپٹر میں پٹخ دیا کہ تن پر ستر ڈھانپنے کے لیے اب ایک چیتھڑا بھی نہیں بچا تھا۔ ہاتھ پاوں زنجیروں سے باندھ دیے گئے۔ آنکھیں ایک پٹی سے بند کردی گئیں۔ اور سیاہ کپڑے کا ایک تھیلا سر پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے سروں کو ایک ٹیپ کے ذریعے میرے گلے کے ارد گرد مضبوطی سے باندھ دیا گیا جس سے دم گھٹا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ پھر ہیلی کوپٹر کےدرمیان میں ایک تختے کے ساتھ باندھ کر لٹا دیا گیا۔ شدید تکلیف ہورہی تھی۔اگر کوئی ہلکی سی حرکت بھی کرتا تو فوجی بے رحمی سے لات پسلیوں میں رسید کرتے۔
          بدن مار کھاتے کھاتے اس حد تک سُن ہوچکا تھا کہ لا ت یا مکے پڑنے کا زیادہ احساس نہیں ہوتا تھا اور میں یہ سمجھ رہا تھا کہ حالتِ نزع شروع ہوگئی ہے۔ دل ہی دل میں رب کریم سے دعا مانگ رہا تھا کہ اس لمحے روح بدن کا ساتھ چھوڑ جائے تا کہ مزیدتشدد اور ذلت سےبچ جاوں لیکن شاید رب کو میرا مزید امتحان لینا مقصود تھا۔
          اسی کشمکش ،تشدد، فحش گالیوں کی حالت میں نہ جانے کتنا وقت گزر چکا تھا کہ ایک مقام پر ہیلی کاپٹر نیچے آیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید اب کچھ آرام ملے لیکن وحشی جانوروں نے اُسی بے رحمی کے ساتھ مجھے ہیلی کاپٹر سے نیچے پھینک دیا۔ وہاں کچھ اور فوجی بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے اور تقریباً ایک گھنٹے تک مجھ پر بے پناہ تشدد کرتے رہے۔چار پانچ فوجی میرے اوپر ایسے بیٹھے تھے جیسے وہ کسی انسان پر نہیں بلکہ کسی شہتیر یا چٹان پر بیٹھ کر گپیں ہانک رہے ہیں۔ جب میں کوئی حرکت یا فریاد کرتا تو بڑی بے رحمی کے ساتھ مارتے تھے۔ ان کے نیچے دبا ہوا میں بس ایک ہی دعا کیا کرتا تھا کہ موت آجائے اور میں اس عذاب سے نجات پاجاوں۔
          تقریباً دو گھنٹے بعد مجھے اُسی بے رحمی کے ساتھ کھینچتے ہوئے ایک اور ہیلی کاپٹر میں سوار کرایا گیا۔ اس جہاز کی حالت پہلے ہیلی کاپٹر سے ذرا بہتر تھی۔ یہاں مجھے ایک آہنی کرسی پر بٹھایاگیا۔ بہت سخت طریقے سے باندھا گیا لیکن دیگر جسمانی تشدد نہیں کیا گیا۔ بیس پچیس منٹ بعد ہیلی کاپٹر زمین پر آیا  اور مجھے کھینچتے ہوئے باہر لائے ۔ پھر مجھے کھڑا ہونے کے لیے کہا۔
          بے شمار جہازوں کی مخصوص آوازیں اور کئی افراد کا شور سن رہا تھا۔ اسی دوران ایک ترجمان کی وساطت سے مجھے کہا گیا کہ پاوں نیچے کرلو، نیچے سیڑھیاں ہیں۔ چھ سیڑھیاں گن کر میں نیچے اترا۔ وہاں میرے سر سے سیاہ تھیلا ہٹا دیا گیا۔ آنکھیں کھل گئیں تو میں نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ کئی امریکی فوجی میرے دائیں بائیں اور آگے پیچھے کھڑے تھے۔ میں ان کے مکمل حصار میں تھا۔ بائیں طرف نظر دوڑائی تو ایک پنجرہ نما کمرہ نظر آیا۔ جس میں کچھ قیدی بے سدھ پڑے تھے۔ انھوں نے میرے ہاتھ پاوں کھول دیے اور ایک چھوٹے سے حمام کی طرف لے جایا گیا۔ ہاتھ منہ دھونے کا کہا گیا۔ لیکن تشدد اور مسلسل بندھے رہنے سے میرے ہاتھ پاوں شل ہوچکے تھے۔ اس لیے اس پانی سے کوئی استفادہ نہ کرسکا۔ بس صرف اپنے بدن کو شاور کے نیچے کھڑا ہو کر گیلا کرسکا۔ایک خاص وردی پہننے کے لیے دی گئی۔ایک میٹر چوڑائی اور دومیٹر طوالت والے دڑبے میں ڈال دیا گیا۔ کموڈ اور ہاتھ منہ دھونے کی جگہ بھی یہی تھی۔ اس کےعلاوہ کوئی سہولت میسر نہیں تھی۔ یہ در حقیقت ایک پنجرہ تھا جو آزاد پنچھیوں کو قید کرنے اور اُن سے آزاد پرواز کرنے کے اختیار و احساس کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
          چاروں طرف آہنی جال اور دیواریں تھیں۔ تنہائی اور بے بسی کا کرب ناک احساس تھا جس نے مجھے گھیر لیا تھا۔ کہا گیا کہ آپ آرام کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔لیکن آرام کرنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور یہ سوچ رہا تھا کہ کہاں ہوں اور کیا ہوگا؟
باقی آئندہ

Shahzad Afzal


اژدھا کے منہ میں چار سال.قسط پنجم۔ بحری قید خانہ

اژدھا کے منہ میں چار سال
ملاعبدالسلام ضعیف سابق سفیر افغانستان برائے پاکستان
قسط پنجم:-بحری قید خانے میں
          جب تھوڑے بہت اوسان بحال ہوئے تو دیکھا کہ یہ ایک بالکل تنگ سی جگہ ہے جہاں تین دیگر چھوٹے چھوٹے کمرےتھے۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری بھی تھی جس میں متعین اہل کار ہر وقت موجود رہتا تھا۔ یہاں پانی اور واش روم کا انتظام بھی تھا۔ میں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ وہ سمندری جہاز ہے جو افغانستان میں جنگ کی خاطر امریکہ نے بحر ہند میں متعین کردیا تھا۔ اس جہاز میں نیچے کی جانب چھٹی منزل پر میں مقید تھا۔ میں نے نہ تو سمندر دیکھا تھا اور نہ یہ بحر ی جہاز کیونکہ یہاں لاتے وقت میری آنکھیں مکمل طور پر سیاہ پٹی سے باندھی گئی تھیں اور اوپر سے موٹے اور سیاہ کپڑے سے بنا ہوا تھیلا بھی پہنا دیا گیا تھا جس نے مجھے دیکھنے سے مکمل طور پر محروم کیا ہوا تھا لیکن صبح و شام بحری جہاز کے انجنوں کی گڑگڑاہٹ اور حرکت سےاندازہ ہوتا تھا کہ میں امریکہ کے ایک بحری جہاز کی نچلی منزل پر قید ہوں۔
          اس کے باوجود کہ مجھ پر سخت خوف طاری تھا، آنکھیں مشکل سے حرکت کرتی تھیں اور زبان تو سوکھ کر تالو سے چپک گئی تھی، ذہن مستعدی سے سوچ بچار میں مصروف تھا۔ بائیں طرف کا کمرہ خاصا بڑا لگ رہا تھا اور گمان ہوتا تھا کہ کئی دیگر قیدی بھی اس کمرے میں موجود ہوں گے۔ صبح ہوتے ہیں سب کی تلاشی ہوئی، ناشتہ دیا گیا۔ اس سرگرمیوں سے اندازہ ہوا کہ ایک اور بھائی بھی یہاں لائے گئے ہیں۔ ہم بات نہیں کرسکتے تھے لیکن ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ کئی قیدی روٹی کے بہانےاپنے کمرے سے چھپ چھپ کر مجھے دیکھ رہے تھے اور میں بھی دُزدیدہ نگاہوں سے ان کا جائزہ لیا کرتا تھا۔ ایک دودن بعد مجھے معلوم ہوا کہ ملا فاضل محمد، نوراللہ انوری صاحب، برہان وثیق صاحب اور غلام روحانی صاحب بھی یہاں موجود ہیں لیکن شدید خواہش کے باوجود ہم گفتگو نہیں کرسکے بس حسرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
          صبح ہوئی تو مجھے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں اور دائیں طرف  ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں تفتیش کا پہلا مرحلہ شروع ہوا۔ کاغذ پر مختلف پہلووں سے میری انگلیوں کے نشان لیے گئے۔ بائیوگرافی لکھ دی گئی، کئی تصویریں اتاری گئیں لیکن کوئی پوچھ گچھ کیے بغیر واپس اپنے قفس میں لایا گیا۔ یہاں آکر دیکھا کمرے میں مزید کچھ چیزیں رکھ دی گئیں تھیں۔ ایک کمبل اور رضائی کا اضافہ ہوچکا تھا جس کی مجھے شدید ضرورت تھی۔ سفید رنگ کی قابوں میں کچھ خوراک بھی موجود تھی جو ایک فرائی انڈے اور نیم پختہ چاولوں پر مشتمل تھی۔ کھانا کھانے کی سکت نہیں تھی بس چکھنے پر اکتفاء کیا۔ برتن فوراً فوجیوں کے حوالہ کردیے اور چند لمحے آرام کا ارادہ کیا۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ ہتھ کڑیوں کی جھنکار اور سپایہوں کے شور و غل سے بیدار ہوا۔ انھوں نے دوبارہ ہتھکڑیاں لگا دیں اور اسی کمرہ ء تفتیش میں پہنچا دیا۔
          تحقیق و تفتیش کے اس دوسرے مرحلے میں بہت کم سوالات پوچھے گئے جو تمام اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے متعلق تھے۔ کہاں ہیں یہ لوگ؟ کیسے ہیں؟ کہاں تھے؟اور کہاں چلے گئے؟ اور عام طور پر طالبان کے متعلق کہ یہ لوگ کون تھے اور کہاں غائب ہوئے۔ اس کے علاوہ ایک سول جو مختصر تھا لیکن بار بار پوچھا جا رہا تھا وہ نائن الیون کے متعلق تھا۔"آپ کو اس واقعےکے متعلق کچھ علم ہے یا آپ نے کچھ سنا تو نہیں ہے؟"
          یہ بات ان کے علم میں تھی کہ نائن الیون کے واقعات میں نہ میرا کوئی ہاتھ تھا اور نہ مجھے علم تھا کہ اس حادثے کے پیچھے کون ہے؟اورشاید یہ کسی کو بھی پتا نہ چلے کہ اس حادثے کے ذمہ دار کون تھے؟ہزاروں مسلمان شہید کردیے گئے۔ ان گنت قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں لیکن ابھی تک امریکہ اس بات پر قادر نہ ہوسکا کہ ایک حقیقی ملزم عدالت میں پیش کرسکے نہ امریکی عوام کو کوئی شافی جواب دے سکا۔بے بنیاد الزام لگا کر کسی کو بھی بغیر کسی قانونی جواز اور ثبوت کے گرفتار کر لیا جاتا ہے ، ملکوں کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے، ہر قسم کی اخلاقی،انسانی اقدا ر کو پاوں تلے روندا جاتا ہے۔ جس کو چاہے دہشت گرد کا لیبل لگا کر بدنام کیا جاتا ہے اور تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔ہمارے حکمرانوں کے قویٰ کمزور ہوچکے ہیں اس لیے وہ اس سازش  کا پردہ چاک نہیں کرسکے بلکہ امریکہ کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنا اپنے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔
          چار پانچ دن اسی طرح تفتیش ہوتی رہی۔ بالکل الٹے سیدھے سوالات ہورہے تھے۔ لیکن یہاں میرے لیے یہ امر باعثِ اطمینان تھا کہ ان چار پانچ دنوں میں مجھ پر کوئی جسمانی تشدد نہیں ہوا نہ کوئی سزا ہوئی اور نہ کوئی خاص ذہنی اذیت دی گئی۔ لیکن اتنی تنگ جگہ میں مطلوبہ ضروریات میسر نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کے یہ لمحے گزارنا انتہائی مشکل ہورہا تھا۔
          اس جہاز پر پانچ چھے دن ہی گزرے تھے کہ صبح ناشتہ کرنے کے بعد بھورے رنگ کی ایک وردی تھما دی گئی اور حکم ہوا کہ پہلی والی وردی اتار کر یہ وردی پہن لوں۔ چند لمحے بعد منتقلی کی کارروائی شروع ہوئی ۔ ہم سب کے ہاتھ پاوں باندھ دیے گئے، سر پر سفید پلاسٹک کے تھیلے پہنا دیے گئے تا کہ کچھ نظر نہ آسکے۔ معلوم نہیں اب کون سا اذیت ناک مرحلہ درپیش تھا۔
باقی آئندہ

Shahzad Afzal


Saturday, August 18, 2012

PAKISTAN ka Matlab Kia....?? [URDU]

پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ ؟؟

یہ میرا پاکستان ہے' اس کی چھاتی پر رواں دواں دریا' اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں کے سلسلے' اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں' اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے' اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت' زیبا بدن سبزے' نورنگ پھول' پھیلتی سمٹتی روشنیاں' رشک مرجاں شبنمی قطرے' لہلہاتی فصلیں' مسکراتے چمن' جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اس کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں۔ اس کے پنجابوں پر جھکے جھکے آفاق' اس کی سرحدوںِپر پھیلی پھیلی فضائیں' اس کے بام و تخت کے بوسہ لیتے آسمان اس کے حسن تقدیر کے نقوش بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ میرا ملک بھی ہے' یہ میری تقدیر بھی ہے۔یہ میری داستان بھی ہے' یہ میرا ارماں بھی ہے۔ یہ میری مچلتی آرزو بھی ہے' یہ میری آرزوؤں کا آستاں بھی ہے' میرے خون کے قطروں میں لکھت میں وہ عزم و حوصلہ نہیںجو اس کے آبی قطروں میں ہے۔ میرے دیدہ وچشم کی جھیلوں میں وہ جمال نہیں جو رومان و حسن اس کے جوہڑوں اور تالابوں میں ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی ہے۔ یہ خوشبوؤں کا مسکن ہے۔ یہ نظاروں کا دیس ہے۔ یہ رحمتوں کی جولانگاہ ہے۔ یہ روشنیوں کا کشور ہے۔ یہ اجالوں کا مصدر ہے۔ اس پر نثار میرے دل وجاں۔ اس پر تصدق میری جز ہائے بدن۔ یہ محض میرا ملک نہیں میرا ایماں بھی ہے' میری جاں بھی ہے' اس کے دکھ مجھے دکھ دیتے ہیں' اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں' میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔

یہ نظریئے' یہ احساس' یہ سوچیں' یہ افکاریہ' یہ درد' یہ آرزوئیں' یہ ولولے اور یہ تمنائیں کسی ایک شخص کے نہیں' ہر پاکستانی کی ہیں اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہم سب اپنے ملک کی محبت اور عقیدت میں گرفتار ہیں۔ لیکن یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سرکیں' ہمارے وطن کی شاہراہیں' ہمارے دیس کی وادیاں' ہمارے کشور ناز کے صحرا' ہمارے پنجاب کے میدان' ہمارے سرحد کے پربت' ہمارے بلوچستان کے ٹیلے' ہمارے سندھ کے ریگزار قتل گاہیں کیوں بن گئیں۔ یہاں نفرتوںکے کانٹے کس نے بوئے؟ یہاں بارود کے دھوؤں میں ہم وطنوں کا خون کس نے بکھیرا۔ الفت و محبت کے نغموں کو بے سازوبے آوازکس نے کیا؟ ناقص اور غلط افکار کے آوارہ اور بے نسل ہاتھیوں کو دشت وطن میں دوڑنے کا موقع کس نے فراہم کیاکہ گلی گلی حسد وبغض کی خاک اڑنے لگی۔ تہذیب و تمدن کی بساط پر حیا سوزی کی آگ کون روشن کرگیا کہ ملت عریانیت اور فحاشی کی ناز بے کراں میں جلنے لگی۔ جدھر دیکھتے ہیں جسے دیکھتے ہیں' حالات کی ظلمتیں جیسے مقدر کے ساتھ کھیل رہی ہوں۔۔۔۔۔۔!!!

ہم خونیں بدن لئے' ہم مجروح جسم لئے' ہم گھائل دل لئے' ہم امستے افکار لئے 'ہم بے حال وجود لئے اور ہم فگار قلب و جگر لئے منزل ڈھونڈنے' سہارا تلاش کرنے' وسیلہ پکڑنے علماء کے درودولت پر حاضری دیتے ہیں۔ علماء کرام! بچالو ہمیں۔ ہم دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں مشائخ عظام کا'

مشائخ عظام! بچالو ہمیں۔ بچالو ہمارے ملک کو! ہماری ملت کو' ہم سنتے ہیں تمہارے پاس دین ہے۔ کہاں ہے تمہارا دین؟ بچاؤ بچاؤ کہ ہم جل رہے ہیں۔ ہم ڈوب رہے ہیں۔ ہمارا ملک بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔ اسے نفرتوں کی چڑیلیں چمٹ گئی ہیں۔ اسے عصبیتوں کے سانپ کانٹ رہے ہیں۔ اسے علاقہ پرستیوں کے بچھو ڈس رہے ہیں۔ خدارا! مدد کرو۔ تم کب تک حسین بحثوں اور دلکش مناظروں کے سوداگر بنے رہوگے؟ اپنے علم کو زحمت آفرین مت بناؤ۔ رحمت پرور بناؤ' لفظ بازی کے میدان سے نکل کر قوم کی امامت کرو' دیکھو ساری قوم تمہارے دروازے پر کھڑی ہے' لگتا ایسے ہے کہ یہ چشمہ فیض بھی کبھی جاری تھا لیکن اب خشک ہوچکا ہے۔ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ یہ دریائے رحمت کبھی انسانیت کو سیراب کرتا تھا۔ اب اس کے سوتے بے فیض ہوچکے ہیں۔ سمجھ یہ آتی ہے کہ یہ رسی کبھی خدا تک پہنچانے کا سلیقہ رکھتی تھی۔ لیکن اب اس کا اپنا ناتا عرش سے کٹ چکا ہے۔ رسم اذاں ہے روح بلالی رضی اﷲ عنہ نہیں۔ وجود نماز ہے قلب علی رضی ﷲ عنہ نہیں۔ ادائے زکواۃ ہے حکمت عثمانی رضی اﷲ عنہ نہیں۔ مناسک دین ہے فراست بوذر رضی اﷲ عنہ نہیں۔ شیریں مقالی ہے عشق حسان رضی اﷲ عنہ نہیں۔ اہتمام تدریس ہے تلقین غزالی رضی اﷲ عنہ نہیں۔۔۔۔۔۔!!!

علمائے کرام ۔۔۔ مشائخ عظام!

تمہارے وجود میں دین مبین کا آب صافی کبھی گدلا نہ ہوتا' تمہارے فیض کا دریائے نور کبھی خشک نہ ہوتا' اگر تم میں ایسے لوگ نہ پیدا ہوجاتے جو خالق پر مخلوق کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کی بوالہوسیاں فیضی وابوالفضل کو بھی شرمسار کردیتی ہیں۔ ہم اہل اسلام' اہل وطن اگر خود تار تار وجود نہ رکھتے ہوتے اور ہماری اپنی شرم سوزیاں اور حیاء سازیاں اگر حد انتہا تک نہ پہنچ چکی ہوتیں تو ہم تمہیں کبھی معاف نہ کرتے لیکن تم اور ہم سب ایک بگڑی ہوئی قوم کا حصہ ہیں۔ اس لئے آؤ شاید ہمارے سیاستدان اور حکمران ہمیں سنبھالا دیں لیکن یہاں بھی دکھتا یہ ہے کہ ہمارا وزن زیادہ ہے اور ہماری سیاست کے ناخداؤں کے سفینے تنگ ظرف ہیں۔ ان کے کمزور اور ناتواں ہاتھ زندگی کی ناؤ کھینچنے میں شاید کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہیں فرصت ہی نہیں دولت سازیوں سے' انہیں موقع ہی نہیں دے رہیں' ان کی ہوس افزونیاں' انہیں سوچنے ہی نہیں دیتیں' دنیا پرستیاں' وہ شرمسار لذت کام و دھن میں' وہ سرگرداں ہیں' مستی عیش و عشرت میں' وہ مبتلا ہیں فریب حکم و حکمت میں' وہ محو ہیں قوم کی سادہ سازی اور سادہ گری میں۔ ان کے جسم پاکستانی ہیں اور روحیں پردیسی ہیں۔ ان کے بدن پاکستانی ہیں ان کے ضمیر بدیسی ہیں۔ بقول شخصے۔

اس کے بھی مقدر میں وہی در بدری ہے
 برباد میری طرح نسیم سحری ہے 
میری روح کے مطاف میرے وطن 
میرے دل کے مدار میرے دیس 
میری آنکھ کے منظر شوق میرے وطن 
میری چشم کے منظر جمالی میری دیس

آج تیری قسمت لکھنے والے قلم تلواریں بن گئے۔ آج تیری حفاظت کرنے والے تلواریں کھجور کی خشک شدہ ٹہنیاں ہوگئیں۔ آج تیری ترقی کے لئے سوچنے والے دماغ خشک گوشت کی سڑی ہوئی بوٹیاں بن گئے۔ آج تیری عظمت کے ترانے الاپنے والے شاعر محبوبوں کی زلف ہائے بے سود میں الجھی ہوئی جوئیں ہوگئے۔ آج تیری عظمت کے گیت گانے والوں کے گلوں میں مفاد کی ہڈیاں پھنس گئیں۔

''میرے وطن پاکستان''

تیری گودمیں پھر وہ نوجوان حسن کی بہاریں کب بکھیریں گچن کا مقدر' جن کا نعرہ' جن کا شوق اور جن کی لگن بس یہی ہوگی۔

پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لاالہ اﷲ اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

میرے وطن! تیرے سرپر دست شفقت رکھنے والے بوڑھے پیر بزرگ کب نشہ مرگ سے باہر آئیں گے کہ تجھے بصیرت اور تدبر کا نور ملے گا۔

''میرے دیس'' تیری چھاتی پر کرکٹ کے بلوں اور ہاکی کی گیندوں سے کھیلنے والوں کو کب فرصت ملے گی کہ وہ کیل و کانٹوں سے لیس ہوکر تیری حفاظت کے لئے بیڑہ اٹھائیں گے۔

''میرے کشور ناز'' میری روح' میرے جگر' تیری تاریخ ماں بیٹیوں کا جنون حسن آرائی اور نشہ شرم سوزی کب دم مرگ دم لے گا کہ وہ تجھے حوصلوں اور پاکیزہ جذبوں کی آغوش میں لے کر پائندہ و زندہ رہنے کی لوری سنائیں گے۔

''میرے وطن'' تو میری زبان ہوجا۔ میرے وطن تو میری آہ بن جا۔ میرے وطن تو عظیم جذبوں میں ڈھل کر بول' آواز دے' ہنگامہ کھڑا کری۔ آج وقت ہے شور مچا اپنوں کو بلا' اپنی برادری کو اکھٹا کر اور صدا لگا۔

اپنی ہی قلفیاں سمجھ کر مجھے لوٹنے والو' میں نہ رہا تو تمہاری عیاشیاں بھی نہ رہیں گی۔ میں نہ رہا تو تمہاری سیاستوں کا بھی مندہ پڑ جائے گا۔ میں نہ رہا تو تمہارے فلک بوس محل بھی گل مردہ کی طرح بے رونق ہوجائیں گے۔ میں نہ رہا تو تمہارے ارمانوں اور آرزوؤں کے سہاگ اجڑ جائیں گے۔ تمہاری شاہ شیریوں کی براتیں لٹ جائیں گی۔ تمہارے سروں کے عمامے گرہ در گرہ بکھر جائیں گے اور تمہاری عزت کی عبائیں اور قبائیں تار تار ہوجائیں گی۔

میرے پھول وطن ۔۔۔۔۔۔ میرے خوشبو دیس 
آتو بھی بول آ میں بھی بولوں
 تو بی دعا کر آ میں بھی پکاروں
 نور شریعت دے دے مولا 
شبنم عظمت دے دے مولا
در رفعت عطا کر مولا

استحکام کی شہدیں نہریں ہوں اور شہد کے دریا بہہ جائیں' زہر کے ساگر ٹوٹ پڑیں اور بغض کے بادل چھٹ جائیں۔ چپہ چپہ رحمت مولا' قدم قدم نور ورنگ' لحظہ لحظہ نظر کرم' لمحہ لمحہ نظر کرم' گام گام اجالے اگیں اور بستی بستی روشنی برسے۔

صدقہ میرے داتا رحمتہ اﷲ علیہ کا
واسطہ میرے غوث رحمتہ اﷲ علیہ کا تجھ کو
مجھے حفظ میں لے مجھے امن سے رکھ!

میری باغوں کے گلدانوں کا' میرے صحرا کے آتش دانوں کا' میرے ذروں اور ستاروں کا' میری بہاروں اور گلزاروں کا' میرے جوبن مست پہاڑوں کا' میری قاری خو آبشاروں کا' میرے سپنوں اور میرے خوابوں کا' میرے آبی موروں اور مرغابیوں کا' میرا کون ہے تیرے سوا مولا!!

ڈاکو لوٹیں عالم سوئیں حاکم سوئیں عالم لوٹیں
حاکم لوٹیں شہری سوئیں اور شہری لوٹیں سب لٹیرے
 میں بے چارہ میں بے بس میں مظلوم میں مقہور

پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔۔۔ پاکستان پائندہ باد

قـــــد افـلــــح مــــن ذکــــھـــا
وقــــد خـــاب مــــن دســــھــا
 ..:: Follow us on ::..

Shahzad Afzal


First Pakistani PhD holder silently makes final journey

First Pakistani PhD holder silently makes final journey

BB Qureshi, the first Pakistani women to earn a PhD, silently made her final journey on Wednesday, causing a bet of stir as she spent her last years in the Edhi Old Home.
After holding a PhD Trinity College in Dublin in Agriculture and Economics, she had worked in leading institutions of the world and that former UN Secretary-General Kofi Annan was among her numerous students.
BB Qureshi was born into an educated family in Muradabad, India in 1922. She did her Graduation and Masters in Economics from Aligarh Muslim University.
After earning her PhD, she came back to Islamabad where she taught for several years.
Her first and last love was with education; hence, she remained single throughout her life. Besides national institutions, BB Qureshi served in African Universities for several years.
After years of teaching abroad, she finally returned to Islamabad after years of teaching abroad, she was so disappointed at the standard of education that she decided not to teach anymore.
After feeling rude behavior of her brother, BB Qureshi decided to shift from Rawalpindi to Karachi and opted to stay at Edhi Shelter Home.
Every action of brave lady shows humbleness and kindness as she chose to share a room with women with special needs and psychiatric illness.
In an interview to media a while back, she said that this was her home and she was happy to be there. After the news appeared on media, Governor Sindh Dr Ishratul Ebad offered her to stay at his house but declined.
Her relatives had forced her to move in with them in December 2011 but she again returned to Edhi Home in February, saying that she would not go back to her family.
An official of the Edhi centre said, "BB Qureshi wanted to be independent and not become a financial burden on anyone, not even her family. She was a jolly figure, always smiling and mingled with everyone".
It seemed she was so disheartened by her family as she didn't want them to have her body and wished to be buried at the Edhi Graveyard.
A legend lady made her final journey, mocking over the hurriedly changing culture of the society.

Shahzad Afzal


Friday, July 20, 2012

Pak Janbaz trooper

Pak Army's Janbaz trooper

MashAllah, he is from the elite of the elite, the Janbaz special forces trooper of Pak army. He has just come out of a fierce firefight with the TTP insurgents ...

MashAllah, he is from the elite of the elite, the Janbaz special forces trooper of Pak army. He has just come out of a fierce firefight with the CIA + RAW backed TTP insurgents, some where along the Pak Afghan border. 

Wounded seriously on his chest and head, look at the peace, calm and serenity on his face for defending Pak Sarzameen with dignity and courage! Masha'Allah, May Allah shower infinite barakah and khair upon these sons of Pak army who are silently facing death everyday to defend our honor, faith and land without any expectation of reward or acknowledgement.

By Allah, these sons are the finest souls Ummat e Rasul (Sallallaho Elahe Wasalam) has produced and are a source of Izzat for the entire millat! We stand with our sons and brothers in uniform and swear once again to live and die with dignity and honor. US, NATO, India, TTP, BLA and SAFMA can go to hell!


Shahzad Afzal


Wednesday, June 13, 2012

NATO will exit Afghanistan as Soviets did, through Central Asia

NATO signs deals with Uzbekistan, Kyrgyzstan, and Kazakhstan to truck its military supplies from Afghan war out through Central Asia, giving it options instead of closed Pakistan route.

By Scott Baldauf, Staff writer / June 5, 2012

NATO may not know the final result of its intervention in Afghanistan, but it now has an exit plan. And the exit will take place through Central Asia, the same route the Soviet troops took after their withdrawal in 1988 and 1989.

As relations worsen between the United States andPakistan, NATO has signed deals with Uzbekistan,Kyrgyzstan, and Kazakhstan (see map here) to move out the tons of equipment that must be withdrawn by 2014, when NATO makes its final exit from Afghanistan.

Speaking with Agence France-Presse news agency,NATO Secretary-General Anders Fogh Rasmussensaid that NATO now considers Central Asia and its Russian-built roads to be the most expedient route out of Afghanistan.  

"These agreements will give us a range of new options and the robust and flexible transport network we need," Mr. Rasmussen said.

Tarnished by more than a decade of war, mutual recriminations, and foreign policy goals that are increasingly at odds, the US-Pakistani relationship now has reached a nadir. From the early post 9/11 days, when NATO received 90 percent of its supplies for the Afghan war through the Pakistani port of Karachi, now Pakistan has cut off NATO's old supply routes. Last November, Pakistan banned NATO's use of Pakistani territory after NATO planes mistakenly bombed a Pakistani post, killing 24 Pakistani soldiers.

For Pakistan, the NATO bombing was the last straw, following the violation of its territorial sovereignty last year when US Navy SEALs captured and killed Osama bin Laden in the Pakistani city of Abbottabad.

Pakistani officials complain that Washington simply cannot grasp the difficulty of reining in popular Islamist militant groups in a country that sees itself constantly under threat from outside. Washington fails to see the threat that Pakistan's larger rival, India, poses to Pakistan's very existence, and fails to understand how angry Pakistani citizens become after each successive aerial attack over their territory. For its part, Washington has come to see Pakistan as an unreliable ally, a country where the Pakistani military maintains ties with the very groups that attack US troops on Afghan soil, where America's biggest enemy, Mr. bin Laden, was taking up residence in a military garrison town.

NATO and Pakistan could still patch things up. Pakistan has been hinting lately that there is still room for dialogue, with Pakistan's Foreign Minister Hina Rabbani Khar suggesting that the US simply needed to apologize for the November bombing of its troops.

"For us in Pakistan ... the most popular thing to do right now is to not move on NATO supply routes at all. It is to close them forever," Ms. Khar told AFP in an interview. "If I were a political adviser to the prime minister, this is what I would advise him to do. But I'm not advising him to do that ... because what is at stake is much more important for Pakistan than just winning an election."

Khar may not want to wait for an apology, given America's current election season. President Obamaseems disinclined, to say the least, and his Republican rival, former Massachusetts Gov. Mitt Romney – whose campaign strategy is to attack Mr. Obama as weak on national defense – is about as likely to push for a NATO apology as he is to push for gun control.

So in the meantime, NATO is looking north, and expanding its options.

Trucking out tanks, artillery pieces, and other military devices that were designed specifically to destroy theSoviet Union, on a route through the former Soviet states themselves, is not only rich with irony, it is also quite expensive. The cost of the northern supply routeis nearly double that of the Pakistani route, but at least it's cheaper than flying all that equipment out by air, which costs the US military $14,000 per ton.

Shahzad Afzal


Tuesday, June 5, 2012

Opinion Maker Articles ----- 2 June


by Shabana Suspicions are aroused when the founder of the discredited groupQuilliam Foundation, Majid Nawaz who has strong pro Israeli supporters, heads off to Pakistan to "…to counter the spread of extremist ideology within Pakistan, predominantly amongst younger generations of Pakistanis, who now constitute 63% of the total population".   Majid Nawaz 'Khudi' has been set [...]

Continue Reading

CIA's Pakistan Misadventure

Posted on 02. Jun, 2012 by .

The CIA wanted an Iraq- and Afghanistan-type government in Pakistan, without firing a bullet.  By AHMED QURAISHI The CIA contingent in Afghanistan has a clear role in grooming and supporting terrorism and insurgency inside Pakistan. This role started immediately after seizing Afghanistan in 2002. The idea was to create Islamic groups that attack and kill [...]

Continue Reading

Alarm bells in the U.S.

Posted on 02. Jun, 2012 by .

when the veterans turn hostile, bells ring louder

Alarms are ringing as negative trends come together in a perfect storm. Is the United States sleepwalking into economic and geopolitical decline? By Arnaud De Borchgrave WASHINGTON, May 29 (UPI) – Gen. David Richards, the British chief of staff, in the understatement of the week, says the strategic landscape is "worrying" and the outlook "bleak." The [...]

Continue Reading


Posted on 02. Jun, 2012 by .

American troops in aircraft

"The vanquished can never set his conditions but here in Afghanistan the victor is being denied that honour;that's causing more global hatred for America and losses both in Afghanistan and at home." Raja Mujtaba By Brig Imran Malik The Chicago Summit sealed the withdrawal plan of the US/NATO/ISAF from Afghanistan. Although all present there tried [...]

Continue Reading

Thick Skinned International Community

Posted on 01. Jun, 2012 by .

Insensitivity of international community and institutions By Brig Asif Haroon Raja   The secular lobby in Pakistan tries to highlight the importance of international community, international institutions and international laws, and above all the role of sole super power as well as India. It never tires lecturing that without compromising with the tyrannical and unjust [...]

Continue Reading

ScreenHunter_72 Jun. 01 08.47

By Ayesha Villalobos The conventional wisdom regarding Iran and Syria is that these are belligerent states headed by hostile leaders. It brought forth security dilemma in which the West and the U.S. (The Great Satan) in particular, may be implicated as deeply as the vilified regimes in Tehran (The Radical) and Damascus (The Mad Dog). [...]

Continue Reading

By S. M. Hali Maulana Fazal-ur-Rahman is a pragmatic politician. He learnt the intricate game of politics from his father Mufti Mahmud but also perfected the art of survival. Over time he has learnt to bend with the wind, run with the hare and hunt with the hounds. His father was opposed to Zulfiqar Ali [...]

Continue Reading

The Zionist Infestation Of Africa Revisited

Posted on 31. May, 2012 by .

ScreenHunter_68 May. 31 11.00

The More Details, The More Devils by Jonathan Azaziah As the cliché famously goes when one attempts to point out the mysterious or little-known intricacies of a certain historical event, "the devil is in the details." An extension of this idiom, when it is applied to the shadowy world of the tribal supremacist persons who [...]

Continue Reading

US: Out of the Mouths of Babes

Posted on 31. May, 2012 by .

By Ellen Brown The youtube video of 12 year old Victoria Grant speaking at the Public Banking in America conference in April has gone viral, topping a million views on various websites.  Monetary reform—the contention that governments, not banks, should create and lend a nation's money—has rarely even made the news, so this is a [...]

Continue Reading

The 'Y' Junction

Posted on 31. May, 2012 by .

ScreenHunter_67 May. 30 19.20

By Bakhtiar Hakeem There is nothing more precious and important than 'man', in the creation of Creator. Man has been told he/she has a life herein to act, to deliver and try making a difference. Unfortunately the time span is not known. He has also been told about a life hereafter, whether believed, half believed [...]

Raja G Mujtaba
O.M. Center For Policy Studies

Shahzad Afzal


Thursday, May 24, 2012

Definitely Dubai

Dubai one the most favorite destination for holidays. Thanks to HeiTech my employer through which I got chance to visit Dubai although. I was bound to be in Abu Dhabi but managed to get some time to roam around Dubai. February 25, 2012 my travel to United Arab Emirates starts 

As usual its a rainy and cool day in Malaysia

At KLIA (Kuala Lumpur International Airport) you must have seen these planes if been there?

Leave Malaysia for now and lets get back to Dubai :)

Dubai Skyline starts as soon you enter Dubai and never ends. Still lots of construction underway.

Architecture in Dubai is stunning 

DAMAC - Engineering at its best 

White and Blue combination is common 

I don't know what is it? but its marvelous. Might be a canon which can fire a huge rounds :p

Entrance to Dubai Mall

Dubai Mall just awesome you can easily spend a whole day inside a mall


ATM GOLD Machine. You can purchase gold through ATM. 5g to 50g, coins, lockets options

Got the ticket to be on top. This card for ElectronicTelescope view it costs 50AED. Please don't buy it. Its of no use. Its just for three minutes and screen is very blur. Trust me you will waste you money don't buy it.

Mission Impossible 4 - Ghost Protocol famous stunt by Tom Cruise  

Here we go... On The Top. Managed to book tickets online. If you purchase tickets online it costs you 100AED. But you want to purchase tickets on the same day it might cost you 400AED and its almost impossible to get ticket on the spot. Try to purchase tickets online at

Very nice gallery while moving towards Burj Khalifa. Whole gallery is decorated with slides on wall and Arab culture present in excellent way. 

Waiting Que for Lift 

828 meters high? Did they spell it wrong? Metres?

Inside the the lift, it takes less than a minute to reach 127th floor

Dubai from top. This view is stunning 

Dancing Fountain famous for its extraordinary dance on Arabic Music. If you visit Dubai Mall in evening must go there. There is a show after every half an hour till 10:00 PM.

Major Skyline Dubai

Keep this EMAAR's building

EMAAR building from top

Dubai Fly Over. The top line is Dubai Metro Line constructed on top of all roads

Can you see the Dubai Metro?

Finally going back

Again beautiful gallery with screens, screen Burj Khalifa construction and records all way till Dubai Mall

I can see this board on entrance gate of all malls in Dubai. But how many follows very difficult to find :p

Excellent view 

The way they use to take Burj Khalifa

Cute Zainab, eating biscuits 

A bit confused!

And the Burj Al-Arab. Its amazing just amazing even more beautiful than Burj Khalifa. Burj Khalifa is high no doubts but Burj Alrab is just amazing. Although you can go inside for visit but you can take photos from outside. This hotel most of the floor owned by Armani so you must have bookings to go inside.

Burj Alrab have one the biggest aquarium

Here comes the Ski Dubai. If you time and 200AED must visit this place. Its fun with a sand desert you can enjoy and Iceland or imagine to be in Switzerland for a while. 
There many thing to enjoy in 200AED ticket you can enjoy Chair Lift, Air Ball Slide and one more stuff i forgot but its very entertaining.


Popular Posts